ہر سال بابرکت مہینہ ربیع الاول اپنے ساتھ روحانی خوشی اور والہانہ عقیدت کی فضا لے کر آتا ہے۔ 15ویں عید میلاد النبی ﷺ پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں میں بھرپور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ یہ دن محض ایک یادگار نہیں بلکہ اس محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جو مسلمان اپنے محبوب نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے رکھتے ہیں۔ اس دن کی اہمیت بے مثال ہے کیونکہ یہ اس عظیم نعمت کی آمد کا دن ہے جو بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت ثابت ہوئی: رحمت للعالمین ﷺ کی ولادت۔

عقیدت سے لبریز قوم
پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں گلی کوچے اور بازار عقیدت و محبت کے مناظر پیش کرتے ہیں۔ ہر طرف سبز پرچموں کی بہار ہوتی ہے، چراغاں کیا جاتا ہے اور عمارتیں روشنیوں سے جگمگا اُٹھتی ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں عام تعطیل کا اعلان کرتی ہیں تاکہ عوام بھرپور طریقے سے مذہبی سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔
اس سال بھی حسب روایت جلوس، محافل نعت، قرآن خوانی، اور درود و سلام کی محافل سجائی جا رہی ہیں۔ فضا یا نبی سلام علیک اور لبیک یا رسول اللہ کی صداؤں سے گونج اُٹھتی ہے اور ہر دل نورِ ایمان سے لبریز ہو جاتا ہے۔
چراغاں اور روح پرور فضا
عید میلاد النبی ﷺ کی سب سے نمایاں خصوصیت وہ دلکش سجاوٹ ہے جو پورے معاشرے کو ایک جشن کی صورت میں بدل دیتی ہے۔
مساجد: گنبد اور مینار روشنیوں سے جگمگاتے ہیں اور در و دیوار پر درود و سلام کے بینرز لگائے جاتے ہیں۔
بازار اور گلیاں: محراب نما آرائشی دروازے اور سبز جھنڈیاں جلوسوں کا استقبال کرتی ہیں۔
گھرانوں میں: اہلِ خانہ اپنے گھروں کو چراغاں کرتے ہیں، سبز پرچم لگاتے ہیں اور نعت خوانی کی محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔
خوشبوؤں، نعتوں اور سبز پرچموں سے سجی یہ محفلیں ایک روحانی منظر پیش کرتی ہیں جو ہر عمر کے افراد کے دلوں کو مسرت اور ایمان کی روشنی سے بھر دیتی ہیں۔
نیاز اور خیرات کی تقسیم
عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نیاز اور صدقہ و خیرات کی روایت نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
سڑکوں پر سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔
رضاکار مسافروں اور غریبوں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں۔
خاندان اپنے گھروں میں یتیموں اور بیواؤں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
یہ عمل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حقیقی محبت ان کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے—یعنی بھوکوں کو کھانا کھلانا، غریبوں کی مدد کرنا اور انسانیت کی خدمت کرنا۔
سیکیورٹی اور انتظامات
جلوسوں اور اجتماعات کے بڑے پیمانے پر انعقاد کے پیشِ نظر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کرتے ہیں۔ پولیس اور رضا کار راستوں پر پہرہ دیتے ہیں اور ٹریفک کا نظام بھی قابو میں رکھا جاتا ہے۔ یہ اجتماعی کوشش دراصل اسلام کی اس تعلیم کی جھلک ہے جس میں اتحاد اور نظم و ضبط پر زور دیا گیا ہے۔
میلاد النبی ﷺ کی روحانی حقیقت
بے شک چراغاں اور جلوس دل کو خوشی دیتے ہیں لیکن عید میلاد النبی ﷺ کا اصل مقصد حضور ﷺ کی سیرت پر غور و فکر اور اس پر عمل کرنا ہے۔
رحمت للعالمین ﷺ: قرآن میں ارشاد ہے “وما ارسلناك الا رحمة للعالمين” (سورۃ الانبیاء 21:107)۔
انسانیت کے معلم: حضور ﷺ نے مظلوموں کو عزت بخشی، عورتوں کو حقوق دیے، اور انصاف قائم کیا۔
رہبر برائے ہر زمانہ: بحیثیت والد، شوہر، قائد اور ہمسایہ، آپ ﷺ کی زندگی آج بھی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔
15 ربیع الاول – ایک جاری روایت
اگرچہ 12 ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ زیادہ اہتمام سے منایا جاتا ہے، مگر کئی علاقوں میں جشن 15 ربیع الاول تک جاری رہتا ہے۔ اس دن خصوصی محافل، دروس اور اجتماعات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ حضور ﷺ کی ولادت کا جشن صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک دائمی روشنی ہے۔
اس موقع پر:
سیرت النبی ﷺ کے موضوعات پر خطابات ہوتے ہیں۔
نوجوانوں میں سیرت کی کتب تقسیم کی جاتی ہیں۔
رفاہی سرگرمیاں مثلاً خون کے عطیات اور فری میڈیکل کیمپس منعقد کیے جاتے ہیں۔
یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ حضور ﷺ کی محبت کا تقاضا ان کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہے۔
دنیا بھر میں میلاد النبی ﷺ
پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی میلاد النبی ﷺ عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
مکہ و مدینہ: قرآن خوانی اور درود کی محافل منعقد ہوتی ہیں۔
ترکی: مساجد میں خصوصی پروگرام اور شہر سجا دیے جاتے ہیں۔
انڈونیشیا و ملائیشیا: بڑے جلوس نکلتے ہیں جن میں ہزاروں افراد شامل ہوتے ہیں۔
افریقہ: ذکر کی محافل اور نعت خوانی عام ہوتی ہے۔
یورپ و امریکا: مسلمان کانفرنسز، نمائشیں اور تعلیمی پروگرام منعقد کرتے ہیں تاکہ نئی نسل کو سیرت سے روشناس کرایا جا سکے۔
یہ عالمی منظر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا پیغام سرحدوں سے ماورا ہے اور پوری امت کو جوڑنے والا ہے۔
میلاد النبی ﷺ سے حاصل ہونے والے اسباق
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حضور ﷺ کی محبت صرف زبانی نعروں سے پوری نہیں ہوتی بلکہ ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی حقیقی اطاعت ہے۔
انسانیت سے محبت – ہر ایک کے ساتھ رحمت و شفقت۔
انصاف – معاملات میں دیانت اور عدل۔
خدمت خلق – بھوکوں کو کھلانا اور ضرورت مندوں کی مدد۔
روحانیت – اللہ سے تعلق مضبوط کرنا۔
اتحاد – فرقوں اور اختلافات سے بالاتر ہو کر امت کو متحد کرنا۔
غور و فکر کی دعوت
جب ہم 15ویں عید میلاد النبی ﷺ کو روشنیوں اور نعتوں کے ساتھ مناتے ہیں تو ہمیں یہ سوال بھی خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا ہم اپنی زندگی میں حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں؟
کیا ہم دوسروں کے ساتھ ویسی ہی رحمت اور معافی کا سلوک کرتے ہیں جیسا آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ کیا؟
کیا ہم کاروبار میں دیانت دار اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہماری سنت پر عمل پیرا زندگی ہے۔
حاصل گفتگو
15ویں عید میلاد النبی ﷺ محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایمان، محبت اور اتحاد کا جشن ہے۔ یہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، ہمیں صدقہ و خیرات پر ابھارتا ہے اور ہمیں حضور ﷺ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی یاد دہانی کراتا ہے۔
دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمان ہوں، وہ اس دن اپنی محبت کا اظہار ضرور کرتے ہیں کیونکہ حضور ﷺ کی ذات ہر مسلمان کے دل میں رچی بسی ہے۔
آخر میں قرآن کی یہ آیت ہمیں راہنمائی دیتی ہے:
“بیشک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے…” (سورۃ الاحزاب 33:21)